| 个人资料Mohajir Qaumi Movement n...照片日志列表 | 帮助 |
|
10月22日 الطاف کی دہشت گردی کے خلاف آپکی مالی مددتمام
مہاجروں سے انتہائی سنجيدگی کے ساتھ اپيل کی جاتی ہے کہ وہ تمام مہاجر
جہنوں نے مہاجر مفاد کی خاطر کسی قسم کی سودے کو دھتکار کر خود انہائی
مشکل حالات کو قبول کيا اور اپنی جان تک کو داؤ پر لگا رکھا ہے، چار سال
سے جاری آپريشن کی وجہ سے اس دوران ٨٣ مہاجروں کو شہيد کيا جا چکا ہے اور
کئی کارکنان لا پتہ ہوچکے ہيں اوراسکے علاوہ آج ا کئی مہاجر جيلوں ميں قيد
ہيں اور جو باہر ہيں وہ روپوشی کی زندگی گزار رہے ہيں۔ ايسی صورت حال ميں
ان کے خاندانوں کی کفالت کی زمہ داری ان تمام افراد پر عائد ہوتی ہے جو
مہاجر قوم پرستی کے ساتھ ساتھ اسلام ، پاکستان ، انسانيت اور سچ و حق کے
لئے متحدہ قاتل موومنٹ کی دہشت گردی کا مقابلہ کے لئے مہاجروں کو سپورٹ
کرتے ہيں۔ خدارا ان مہاجر خاندانوں کی مالی مدد کيجئے۔ وہ تمام مہاجر چاہے
وہ جماعت اسلامی ميں ہيں يا جميعت علما پاکستان ميں کسی اور جماعت کو
سپورٹ کرتے اس بات کو ذہن ميں رکھيں کہ مہاجر قومی موومنٹ ايک محب وطن
جماعت ہے جس نے متحدہ قاتل موومنٹ کا ہر دم مقابلہ کيا ہے اور مستقبل ميں
بھی يہی واحد جماعت ہے جو قاتل ٹولے کا مقابلہ جان کی بازی لگاکر کر رہی
ہے مستقبل ميں بھی کرتی رہے گی ليکن اس وقت مہاجرکارکنان اور انکے
خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائيے اور مندر جہ زيل اکاؤنٹ ميں اپنی
بساط سے بڑھ کر فنڈز جمع کراکر سچے اور پکے مہاجر، مسلمان، اور پاکستانی
ہونے کی ذمہ داری قبول کيجئے۔۔۔
اٹھو تم کو شہيدوں کا لہو آواز ديتا ہے
خدا بھی اہل پرواز کو پرٍ پرواز ديتا ہے
Ac # 89898-1 National Bank Malir Cant Bazaar Karachi Pakistan Mrs Afaq Ahmed is operating this account with the name Farzana Parveen (http://www.mqm.com.pk/forum/viewtopic.php?t=350) 9月26日 قاتل ٹولے کے اعمال ہٹلر کی نازی پارٹی کے منشور کے آئنے ميںالطاف حسين نے ايک انٹر ويو ميں کہا تھا کہ انہونے اپنی پوری زندگی ميں صرف ايک ہی کتاب پوری پڑھی ہے اور وہ ہے ہٹلر کی سونح حيات ۔ ہمارا خيال کہ جس طرح کی وہ انگريزي بولتے ہيں اسکے مطابق انہونے اس کتاب کا اردو ترجمہ ہی پڑھا ہوگا اور اردو زبان ميں اس کتاب کا ترجمہ صرف ايک ہی ہے ۔ اسکے مطابق نازی پارٹی کے ٢١ نقاطي منشور کو ملاحطہ فرمائيے اور يہ بات ذہن ميں رکھکر پڑھيئے کہ الطاف کے قاتل ٹولے کے اعمال ميں ہٹلر کی نازی پارٹی کے منشور ميں کتنی مطابقت ہے۔ نازی پارٹی کا اعلانيہ منشور اور قاتل ٹولے کا اس پر عمل ١٩٢٠ ميں نازی پارٹی نے ايک جلسے ميں پارٹی منشور کا اعلان کيا جسکے بنيادی خصوصيات مندرجہ زيل ہيں جن سے کسي اور تاريخي دستاويز کے مقابلے ميں ہٹلر کی شخصيت اور اسکی ذہني ميلان کی عکاسی ہوتی ہے۔ان نکا ت پر غور کيجيئے اور قاتل ٹولے کے اعمال کا جائزہ لئجيے ليکن يہ بات بھي ذہن ميں رکھئيے کہ قاتل ٹولے کے سربراہ نے ايک انٹر ويو ميں يہ کہا تھا کہ انہونے اپنی زندگی ميں صرف ايک کتاب پوری پڑھي ہے اور ہے "ہٹلر کی سوانح حيات"۔ ١ ۔ قوم کی منزل کا رخ اکثريت نہيں اقليت متعين کرتی ہے۔ ٢ ۔ دانش ور گمراہ انسان ہوتے ہيں جو سائنسی بد ہضمی کا شکار ہوتے ہيں ٣ ۔ جمہوريت افراتفری اور انتشار سے دو چار کرتی ہے۔ ٤ ۔ ہماری نسل سچی اور کھری ہے اور صرف يہی صحيح اور کھری نسل ہے۔ ٥ ۔ ماحول ميں تشدد کا الاؤ بھڑکا کر تباہی پھيلانا ضروري ہے ۔ ٦ ۔ ليڈر کو ايسے پيرو کاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں پر ظلم و جبر کريں اور ظاہر يہ کريں کہ وہ انہيں جبر و ستم سے بچا رہے ہيں ۔ ۔۔٧۔ تحريک کے لئے نا خواندہ اور سادہ لوح نوجوان زيادہ موزوں ہيں۔ ٨ ۔ پيرو کاروں کو تعميل حکم کی تربيت دی جائے اور اسے سوال کر کی اجازت نہيں ہونا چاہئے ۔ ٩۔ ہم رائے عامہ کے نہيں بلکہ اسکے ليڈروں کے غلام ہيں ۔
۔ ١٠اخبارات کو عوامی خواہشات اجاگر کرنے کی اجازت نہيں دی جانی چاہيئے ۔ ١١ ۔ مخالفين جو کچھہ بھی کہيں اسے رد کرديا جائے ۔ ١٢ ۔ کام سے کم تحرير زيادہ سے زيادہ تقرير ١٣ ۔ سڑکوں پر ہنگامہ تحريک کی جان ہے ۔ ١٤ ۔ عوامی مظاہرے پر امن نہيں ہونا چاہيئے ۔ ١٥ ۔ تحريک سے علحيدہ ہونے والے کی سزا موت ہونی چاہيئے ۔ ١٦ ۔ چھوٹے غداروں سے پہلے بڑے غداروں کو ہلاک کيا جائے ۔ ١٧ ۔ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو ۔ ١٨ ۔ سياسی خاميوں کو آئين درست نہيں کرتا ۔ ١٩۔ اپنی فکر کے پرچار کے لئے طاقت استعمال کی جائے ۔ ٢٠ ۔ آٹھہ کروڑ جرمنوں کی آبادی ١٠٠ سال ميں بڑھ کر ٢٥ کروڑ ہونی چاہيئے ٢١ ۔ ہزار غداروں کو ٹھکانے لگادينا چاہيے
9月13日 خواتين ونگ کی آفاق بھائی کے لئے دعائيہ تقريب
9月7日 ايک اور مہاجر کارکن کو شہيد کرديا گيا ٧ستمبر ٢٠٠٥ کراچي۔۔۔مہاجر قومی موومنٹ کے کارکن ناصر ولد نواب کو گارڈن
تھانے کي حدود عثمان آباد ميں بي پي فيکٹري سے متصل باجے والي گلي کے قريب
ٹارگٹ کلنگ کے ذريعے شہيد کرديا گيا۔ تفصيلات کے مطابق منگل کي شب جائے
واردات پر متحدہ کے مسلح موٹر سائکل سوار دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ
سے٣٠ سالہ ناصرکمانڈو ولد نواب۔جان بحق اور انکے دو دوست ٢٥ سالہ فقير
محمد ولد شمش الدين اور ٢٨ سالہ سجاد ولد عبدالمجيد شديد زخمي ہوگئے۔
واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔مقتول کي لاش اور زخميوں کو سول ہسپتال
لايا گيا جہان مقتول کي لاش کے ہمراہ آنے والے مشمعل ہجوم نے متحدہ
کی دہشت گردی کے خلاف نعرے بازی کی مقتول کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرائے بغير
اپنے ساتھ لے گئے۔ مقتول ناصر جونائيل جيل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈی ايس پی
ايجاز کا بھائی ہے۔اور واقعہ کے وقت شہيد ناصر اپنے دوستوں کے ہمراہ بی پی
فيکٹری کے قريب بيٹھا تھا کہ متحدہ کے مسلحہ موٹرسائکل سواروں نے ان پر
اندھا دھند فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے۔ مقتول شہيد سرکاری ملازم تھا۔
شہيد ناصر مہاجر قومی موومنٹ رنچھوڑ لين سيکٹر کا کارکن تھا۔ واقعہ کے بعد
علاقے ميں خوف و ہراس پھيل گيا اور دکانيں اور بازار بند ہوگئے۔ 8月25日 جيل ميں آفاق احمد کی جان کو خطرہحکومت جيل ميں آفاق
احمد کے قتل کی سازش کا نوٹس لے
اسلام
آباد" اگر الطاف حسين ميں ذرا بھی جرات ہے تو وہ يہاں آکر سياست کريں اس
وقت انکا اپنا گورنر اور وزرا کی فوج موجود ہے انکو کس چيز سے ڈر لگتا ہے" ان
خيالات کا اطہار مہاجر قومی موومنٹ کے رہنماؤں شريف خان اور فيروز خان نے اسلام
آباد ميں ايک مشترکہ پريس کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کيا۔ انہونے کہا کہ
ايم کيو ايم ايک غنڈہ تنظيم ہے اس لئے آفاق احمد کو جيل ميں قتل کرنے کا منصوبہ
بنا ليا ہے۔ اس وقت بھی ايم کيو ايم نے پورے کراچی کو يرغمال بنا رکھا ہے۔ ہمارے
پر امن علاقوں ميں متحدہ کو مسلط کرنے کے بعد سے ہمارے ٨٠ سے زائد اراکين قتل کو
قتل کيا جا چکا ہے۔ ہمارے کارکنوں پر جھوٹے مقدمات کئے گئے ہيں عدالتوں سے رہائی
کے بعد انہيں دوبارہ گرفتار کرليا جاتا ہے۔ انہونے کہا کہ ايم کيو ايم کے ليڈر
بزدل ہيں۔ الطاف حسين کو اس وقت کس بات کا ڈر ہے ۔ اسے چاہئے کہ اب وہ اپنے ملک
واپس آکر سياست کرے۔ اس وقت سندھ ميں انکا اپنا گورنر اور سندھ اور وفاق ميں
متعدد وزرا ہيں۔ انہونے کہا کہ ہميں کراچی ميں پريس کانفرنس نہيں کرنے دی جاتی اس
لئے ہم اسلام آباد آئے ہيں۔انہونے کہا کہ رکن سندھ اسمبلی يونس خان کو کراچی سے
جيکب آباد منتقل کيا گيا انکے اہل خانہ پر دباؤ اور دھمکی کا ہر حربہ استعمال ہوا
جيکب آباد ميں رکن اسمبلی ہونے کے باوجود سخت اذيتيں دی گئيں ۔ متحدہ قومی موومنٹ
اور اسکے دہشت گرد گزشتہ پونے تين سالوں سے ہمارے کارکنوں اور رہنماؤں کی وفا
دارياں تبديل کرنے اور اپنا تابع بانے کا ہر حربہ استعمال کر چکے ہيں ان تمام
کوششوں ميں وہ ناکام ہو چکے ہيں اور مہاجر ارباب اختيار کو يہ باور کرادينا چاہتے
ہيں کہ اگر انہونے دہشت گردوں کو نہيں روکا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری ان پر
عائد ہوگی۔ ہم ايک بار پھر ارباب اقتدار سے اپيل کرتے ہيں کہ سندھ بالخصوص کراچی
کو دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کے چنگل سے آزاد کرائيں۔ کراچی ميں تمام سياسی
جماعتوں کو سياسی سرگرميوں کی اجازت دي جائے تاکہ شہريوں کو دہشت گردوں اور بھتہ
خوروں کے ہاتھوں مزيد يرغمال ہونے سے بچايا جائے ۔ ميں پاکستان کے مقتدر حلقوں
،انسانی حقوق کی تنظيموں ، سپريم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے چيف جسٹس
صاحبان سے اپيل کرتا ہوں کہ آفاق احمد کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی سازش کی
تحقيقات کروائيں اور انکی حفاظت کو يقينی بنائيں۔دريں اثنا ايم ايم اے اور پپلز پارٹی کی حيدر آباد کی مقامی قيادت نے حيدر آباد ميں سرکاری سرپرستی ميں متحدہ کی دہشت گردی اور دھاندلی کے خلاف احتجاج کے طور پر انتخابات کا بائکاٹ کرديا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٢٥اگست٢٠٠٥حيدرآباد۔۔۔۔۔حيدرآباد ميں اتحاد ملت گروپ کے ناظم کے اميد وار کا انتخابی دفتر نزر آتش اورجبکہ سابق سٹی ناظم کی ريلی پر حملہ۔ ايک درجن سے زائد افراد زخمی پولس کوئی گرفتاری نہيں کر سکی۔ تفصيلات کے مطابق لطيف آباد يو سی ٦ سے اتحاد ملت گروپ کے اميد وار برائے ناظم سليم خانزادہ اور نائب ناظم کے اميدوار سعيد احمد کے انتخابی آفس واقع لطيف آباد نمبر١٠ کو نزر آتش کرديا اور دفتر کا سارا سامان جل کر خاکستر ہو گيا۔فائر بريگيڈ کے عملے نے پہنچ کر آگ پر قابو پا ليا۔سليم خانزادہ نے آفس کو نزر آتش کرنے کا الزام يو سی ٩ سے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے حق پرست پينل کے اميد وار راحيل قائم خانی اور ديگر پر عائد کيا ہے۔۔انہونے کہا کہ راحيل قائم خانی کے خلاف رپورٹ بھی درج کرائي ہے ليکن ابھی تک کوئي گرفتاری نہيں ہوئی ہے۔ مذکورہ يو سی ميں حق پرست اميدواروں اور انکے حاميوں کي جانب سے مخالف اميدواروں کو ہراساں اور زدو کوب کئے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہيں۔۔ علاوہ ازيں انتخابی مہم کے اختتام پر منگل اور بدھ کی شب سابق سٹی ناظم حاجی معين شيخ کی جانب سے نکالی جانے والی ريلی پر يو سی ١٩ميں حملہ کيا گيا جسميں پتھروں اور ڈنڈوں کے آذادانہ استعمال سے گاڑيوں کے شيشے ٹوٹ گئے اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ سابق سٹی ناظم نے حملے کا الزام حق پرست اميد وار بابو الياس کے بھائی قاضی نثار اور انکے حاميوں پر عائد کيا ہے اور بتايا کہ اس حملے ميں ١٥ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہيں ۔۔پولس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔علاقے ميں سخت کشيدگی پائی جاتی ہے۔۔ 8月24日 دہشت گردوں نے مخالفين کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کرديا ہےدھاندلی سے کامیابی کے نتائج مخالف سیاسی کارکنوں کی ہلاکت کی شکل میں نظر آرہے ہیں
٢٥ اگست٢٠٠٥
کراچی… مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ندیم السلام نے عارضی بیت
الحمزہ سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات
کے پہلے مرحلے میں دھاندلی کے ذریعے حاصل کی جانے والی کامیابی کے نتائج
شہر میں معصوم اور بے گناہ سیاسی کارکنوں کے اغوا اور قتل کی وارداتوں کی
صورت میں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انتخابات کے اگلے ہی روز سے دہشت گردوں
شہر میں اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حکمرانوں کو اپنے
اقتدار کے آگے سندھ اور کراچی کی سلامتی اور نہ ہی انسانی جانوں کے ضائع
ہونے کی پرواہ ہے۔
کارکن برداشت سے کام ليکر لڑاؤ اور حکومت کرو کی پاليسی کو ناکام بناديں
٢٤اگست ٢٠٠٥۔کراچی۔۔ … مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کی سینٹرل ایگزیکٹو
کمیٹی نے عارضی بیت الحمزہ سے جاری بیان میں کارکنان اور ذمہ داران کے نام
اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ تمام کارکنان وذمہ داران حکومتی جماعت کی
اشتعال انگیز کارروائیوں پر اپنے مثالی صبرو برداشت سے کام لیتے ہوئے ان
کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کو ناکام بنا دیں۔ کمیٹی نے کہا کہ مہاجر
قومی موومنٹ پاکستان کی پرامن جدوجہد نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ ایک
محب وطن اور پرامن جماعت ہے جس کے کردار کو اس ملک کے عوام اور محب وطن
جماعتوں کے سامنے منفی انداز میں پیش کرنے کی پروپیگنڈہ مہم حکمرانوں اور
ان کے اتحادیوں نے مل کر چلائی اور جسے جواز بنا کر اس پر نہ رکنے والے
مظالم کا سلسلہ شروع کیا اور غیراعلانیہ پابندی لگائی۔ متحدہ نے دھاندليوں کے ثبوت مٹانے شروع کردئيے۔کراچی
ميں بلدياتی انتخابات ميں سرکاری سرپرستی ميں ہونے والی دھاندليوں کے ثبوت
مٹانے شروع کرديئے ہيں۔ اس مقصد کے ليئے کاؤنٹر سلپس اور مخالفيں کو ملنے
والے ووٹوں کے بيلٹ باکس کو گندی ناليوں اور کچرا خانوں ميں پھنکنا شروع
کرديا ھے۔شہر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد ميں کاؤنٹر سلپس کے درجنوں
بنڈل ملے ہيں۔لياقت آباد کی يو سی-9 مجاہد کالونی کے فارمين کالج قاۓم
کئيے گئے پولنگ بوتھ سے درجنوں کی تعداد میں کاؤنٹر سلپس کے بنڈل ملے ہیں
٨١٨٤٠ -کے جی آئی جی-نمبر ٨١٨٧٤٠ تک سيريلز کے کاؤنٹر سلپس پر پرازئڈنگ
آفيسر کے دستخط ہيں ليکن ان سلپس موجود دستخطوں ميں واضح فرق ہے۔جبکہ اکثر
سلپس پر دستخب موجود نہيں ہيں۔ ذرايع کے مطابق ان سلپس کو جعلی ووٹ
بھگتانے کے لئے استعمال کيا گيا۔ اطلاعات کے مطابق لياری ميں لياری جنرل
اسپتال کے عقب ميں واقع کچرا کنڈی سے٨ ايسے بيلٹ باکس ملے ہيں جن ميں حق
پرستوں کے مخالف اميدواروں کے ووٹ موجود ہيں۔ مذکورہ بيلٹ باکس پولس نے
اپنی تحويل ميں لے ليئے ہيں۔ اس ضمن ميں جب متعلقہ پولس اسٹيشن سے رابطہ
کيا گيا تو حسب توقع متحدہ کے فرماںبردار يا خوف زدہ ڈيوٹی پر موجود افسر
نے بيلٹ باکس اپنی تحويل ميں لينے سے انکار کيا۔ ايک اور واقعہ ميں برگيڈ
تھانے کی حدود ميں جمشيد ٹاؤن يو سی9 کے ايک اسکول سے 4 بيلٹ باکس برآمد
ہوئے۔ برگيڎ تھانے کے ڈيوٹی پر موجود افسر خلاف توقع بتا ديا کہ مذکورہ
مقام سے 4 بيلٹ باکس تحويل ميں ليکر اليشکن کميشن کو بھجواديے ہيں ، اللہ
اس ڈيوٹی آفيسر کی متحدہ سے جان اور نوکری کی حفاظت فرمائے امين۔ 8月22日 کراچي ميں روشن خيالوں کی فتح ؟وزیر
اعظم نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ھے کہ کراچی میں پرامن ترین انتخابات
ہوئے ہیں اور بڑی تعداد میں روشن خیال امیدواروں نے کامیابی حاصل کی
ہے۔انہونے یہ کارنامہ انجام دینے پر اہل کراچی کی تعریف کی اور کہا کہ
انہونے انتہاپسندوں کو مسترد کردیا ہے۔دیکھا جائے تو وزیر اعظم پوری قوم
کے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہونے پہلی بار قوم کو ٹھوس معنوں میں بتایا ہے
کہ روشن خیالی اور میانہ روی کا مفہوم کیا ہے اور اسکی مثالیں کون کون سی
ہیں۔اب تک کی صورت حال کے مطابق متحدہ اسلح اور ریاستی اداروں کی سرپرستی
میں مختلف ٹاؤنز میں قبضہ کرنے میں کامیاب رہی اور اسنے ایک قانونی اور
جمہوریت پسند اپنی مخالف جماعت پر غیر انسانی اور غیر جمہوری رویہ اپنا کر
اسپر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ھیں اسکے ٨٠ سے ذیادہ اراکین کو شہید کرچکے
ہیں۔ سنی تحریک کے ١٨ پپلز پارٹی کے ٤ اور جماعت اسلامی کے ١٧ اراکین اور
نائب امیر کراچی اسلم مجاھد کو شہید کرکے ، جبری بھتہ اور لوٹ مار کرکے
ایک دہشت گرد جماعت کے نام سے مشہور ھے۔ لیکن وزیر اعظم نے انکو روشن خیال
کہہ کر قوم پر واضح کردیا ھے کہ روشن خیالی ھم کسی سمجھ تے ہیں۔ متحدہ ایک
ایسی سیاسی مافیہ ہے جس کی وجہ سے اب تک ٢٠ ھزار سے زائد افراد کراچی میں
مارے جا چکے ہیں اور ملک کی تقریبا تمام ہر سیاسی جماعت اسکا ذمہ دار
متحدہ ہی کوٹہراتی ہے۔ اسی بنیاد پر پاک فوج اور رینجرس ماضی میں
متحدہ کے خلاف آپریشن کرتے رہے ہیں۔ متحدہ پر الزام ہے کہ اسنے میجر کلیم
کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایاتھا۔ متحدہ کے ہاتھوں ١٩٩١ سے ١٩٩٢ تک
فوج، رینجرس اور پولس کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔ متحدہ نے فوجیوں کی
گاڑیوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔درجنوں تھانوں پر حملہ کیا، فوج کے
بریگیڈیئرہارون نے مبینہ طور پر جناح پور کا نقشہ برآمد کیا۔ پاک فوج کے
اپنے دعووں کے مطابق اس نے کراچی کے مختلف علاقوں میں متحدہ کے قائم کردہ
ٹارچر سیل برآمد کئے۔ پاک فوج کے آپریشن کے دوران الطاف حسین، عمران فاروق
عشرت العباد کے خلاف بغاوت ، دہشتگردی، قتل، اغوا اور آتش ذنی کے سینکڑوں
مقدمات درج ہوئے۔ جب مہاجروں کی اصل قیادت کی آمد کی خبریں ایم کیو ایم
میں گردش کرنے لگیں تو اسی لئے الطاف حسین ایف آئی اے کے ڈی جی بریگیڈیئر
امتیاز کی سرپرستی میں ملک سے فرار ہوگئے۔ متحدہ بھتہ خوری کے حوالے سے بدنام زمانہ ہے۔کراچی کے شہریوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ، شہر میں گاڑیاں ، موٹر سائکلیں اور موبائل فون چھین نے کی وارداتیں بھی متحدہ کے کار کنان ہی کرتے ہیں۔متحدہ کا جب بھی زکر آتا ہے تو بوری بند لاشیں خود بخود یاد آجاتی ہیں۔ ملک کے حساس ادارے الزام لگاتے رہے ہیں کہ متحدہ کے بھارت کی خفیہ اجنسی “را“ سے رابطے ہیں اور متحدہ کے کئی مفرور لوگ بھارت میں دہشت گردی کے کیمپ چلاتے ہیں۔سابق وزیر داخلہ اور میجر جنرل نصیراللہ بابر نے کے ایسےدرجنوں بیانات اخبارات کے ریکارڈ پر ہیں جس میں انہونے اس الزام کا اعادہ کیا ہے۔ الطاف حسین نے سیاست کا آغاز پاکستان کا پرچم نزر آتش کرکے کیا تھا۔ اس الزام کے تحت وہ ٩ مہینوں کی سزا کاٹ چکے ہیں۔ انہونے بھارت کا دورہ کیا تھا اپنے اس دورے میں بین الاقوامی ذرایع ابلاغ سے باتیں کرتے ہوئے انہونے صاف کہا تھا کہ اگر میں ١٩٤٧ میں رائے دینے کی پوزیشن میں ہوتا تو ہرگز ہرگزقیام پاکستان کے حق میں رائے نہیں دیتا اور یہ کہ قیام پاکستان انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مہاجر قومی موومنٹ کے خلاف جب سے متحدہ نے قبضہ گیر آپریشن شروع کیا ہے اس وقت سے مہاجر قومی موومنٹ کے ٨٣ اراکین قتل ہو چکے ہیں اور ایم کیو ایم حقیقی سے متحدہ کے علاوہ کسی بھی سیاسی و دینی جماعت کی دشمنی نہیں ہے۔وزیر اعظم نے ایسی تنظیم کے امیدواروں کو روشن خیال قرار دیاہے اور اس سے حتمی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ روشن خیال میانہ روی کے فلسفے کا علم بردار وہ ہے جو دہشتگرد اور بھتہ خور ہو۔ جو ٹارچر سیل چلائے۔“را“ سے جس کے رابطے ہوں۔ جو قیام پاکستان اور پاکستان کے وجود کا سچے دل سے مخالف ہو۔صرف ایسے لوگ آرمی چیف کے سیاسی اتحادی ہو سکتے ہیں اور صرف ایسے ہیلوگوں کو وزیر اعظم صاحب روشن خیال قرار دے کر سراہ سکتے ہیں۔ جہا تک کراچی میں “روشن خیالوں“ کی فتح کا تعلق ہے تو اس بھی قوم کو معلوم ہوگیا کہ روشن خیال وہ ہے جو اسلحہ کے زور پر کم از کم ٤٠ فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرے، حریف جماعتوں کو الیکشن میں حصہ نہ لینے دے، جو حصہ لے لے اسکے پولنگ ایجنٹوں کو اسٹیشنوں سے نکال باہر کرے اور بیلٹ بکس فوج ، رینجرس اور پولس کی موجودگی میں جعلی ووٹوں سے بھردے۔ اور صرف یہی نہیں طے شدہ نتائج کو بھی تبدیل کرانے کے لئے متحرک ہوجائے۔ کراچی میں بلدیاتی انتخابات ١٨اگست کو ہوئے، الیکشن کمیشن کے ذرایع کے مطابق کراچی میں رائے دہندگان کی مجموعی شرح ٢٥ فیصد رہی لیکن اسکے باوجود سرکاری نتائج کا اعلان ٢٢ اگست کو ہوسکا۔ کیا یہ بھی روشن خیالی اور میانہ روی کا فلسفے کے حاصل ہے۔ حالنکہ الیشن کمیشن کے اپنے اکیجیل (شیڈول) کے مطابق نتائج کا اعلان ٢٠ اگست تک ہونا تھا۔ ایک وقت تھا کہ بری شہرت کے حامل چند افراد کی وابستگی بھی بوجھ ہوتی تھی اور ایک یہ وقت ہے کہ دہشت گردی، بھتہ خوری اور اسلحہ کے زور پر نتائج تبدیل کرنے والی تنظیم بھی حکمرانوں کے لئے قابل قبول ہے۔ بلکہ وہ اسے روشن خیالی کی سند بھی دے رہے ہیں ۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کا یہ حشر کیسے ہوا؟ اسکا جواب واضح ہے۔ پاکستان کا حشر ایسے ہواِ انتخابات کے بعد متحدہ کی دہشت گردیاں٢٠ اگست ٢٠٠٥۔کراچی ۔۔۔ اب متحدہ قومی ، صوبائی اور کراچی کی شہری حکومت
پر جائز و نا جائز طريقے سے حکمران بن چکی ہے اور يہ صورت حال ١٩٨٧/٨٨ سے
مختلف نہيں ہے اب پہلے کی طرح متحدہ دہشت گردی کرتی ہے تويہ سياست ميں يہ
متحدہ کے خاتمے کے انجام پر مجتمد ہو گی ۔ ليکن اگر متحدہ نے سياست ميں شرافت سے کام ليا
تو ہو سکتا ہے کہ اگلے انتخابات ميں متحدہ کو دہشت گردی اور دھاندلی نہ
کرنی پڑے۔ ليکن شرافت کی اميد متحدہ کے ماضي اور الطاف حسيں کی شخصيت کے
ہوتے ہوئے بہت مشکل ناممکن کے قريب لگتی ہے۔ کيون کے کل اليکشن ميں
متحدہ کی کاميابی کا اعلان ہوا ہے اور کل ہی کراچی کے مختلف علاقوں ميں
فائرنگ کے نتيجے ميں ٩ افراد ذخمی ہو گئے ہيں۔ ٢٣اگست٢٠٠٥کراچی۔۔۔۔۔ سني تحريک کے کارکن٣٥ سالہ محمد علی قادری ولد محمد قاسم جمن کو عثمان آباد ميں پير کومغرب کی نماز ادا کرکے بادامی مسجد سے باہر نکلے توپہلے سے گھات لگائے ہوئے متحدہ کے ٥ دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شديد زخمی کرديا زخمی کو فوری طور پر ہسپتال ليجايا گيا ليکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گيا۔ آج ہی کی دوسری دہشت گردی۔۔۔۔۔۔سرجانی ٹاؤن کے علاقے سيکٹر7/بی ميں جماعت اسلامی کے يو سی-٦ کے سر گرم کارکن محمد اقبال کو جو کہ گھر کے باہر بيٹھا ہوا تھا کو ايک ٹيکسی نمبر جے ايم ٦٢١٢ اور موٹر سائکلوں پر سوار متحدہ کے ١٢ سے ذائد دہشت گردوں نے جن ميں قادر، شہزاد ، بابر ، شکيل اور ديگر شامل تھے اغوا کرليا اور ٹيکسی ميں ڈالکر لے گئے اور شديد تشدد کا نشانھ بنا کر سنسان علاقے ميں خھاڑيوں ميں پھينک گئے۔ محمد اقبال کے چہرے ، آنکھہ پيٹ اور نازک حصوں پر شديد زخم آئے ہيں۔۔ يادش بخير دونوں جماعتوں کے مذکورہ کارکنان نے انتخابی مہم ميں متحدہ کے خلاف بڑھ چڑھ کے حصہ ليا تھا۔ آج کی تيسری دہشت گردی ۔۔۔۔ متحدہ اپنے ہی کارکن سرجانی ٹاؤن کے رہائشی گلفام جو کے اپنے سسرال ميں لياقت آباد منتقل ہو گيا تھا کی تشدد زدہ لاش ملی پوشٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق مقتول کو نشہ آور چيزکھلائی گئی اور تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کيا گيا۔ مقتول کار مکينک تھا۔ اسکے قتل پر متحدہ کے کسی ذمہ دار نے کوئی رد عمل ظاہر نہيں کيا ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ مقتول پر غداری کا الزام تھا۔۔ ٢١ اگست ٢٠٠٥ کراچی۔۔ جماعت اسلامی کے نائب امير کے گھر کا گھر کا گھيراؤ متحدہ کے بغير سائلنسر کی موٹر سائکل سواروں نے کيا اور انکے گھر پر فائرنگ کی مزيد گھر کے صحن ميں دھماکہ خيز کريکر پھنکا گيا۔ يہ متحدہ کا حمکومت پر مکمل کنٹرول ہونے کا غاز ہے۔۔۔ ۔۔۔٢٢اگست ٢٠٠٥ کراچی گورنر ہاؤس ميں وزير اعظم کی پريس کانفرنس کے دوران صحافيوں کے ساتھ بد سلوکی گئی اور پی اين ايس، سی پی اين ای نے کانفرنس کا بائکاٹ کرديا اور صحافيوں کے اجلاس ميں متفقہ قرارداد ميں فيصلہ کيا گيا کہ جب تک گورنرن ہاؤس سےصحافيوں کے ساتھ اس توہين آميز واقعہ کی تحريری معذرت نہيں کی جاتی اس وقت تک وزير اعظم کی پريس کانفرنس کا مکمل بائکاٹ کيا جائے گا اسکی کوريج نہيں کی جائے گی۔ لگتاہے کہ ١٩٨٧ اور ٨٨ ميں جس طرح اخبارات اور رسائل کو دھونس اور دھاندلی کے ذريعے اپنے دباؤ ميں رکھا گيا تھا وہ دور پھر شروع کرديا گيا ہے۔ 8月19日 کراچی ميں لوکل باڈيز اليکشنزکراچی: ’دھاندلی‘ دس گرفتار
پولنگ اسٹیشن میں تصادم میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہوگیا ہے کراچی میں چالیس ہزار پولیس اور رینجرز کی نفری اور فوج کے گشت کے باوجود فائرنگ تشدد اور دھاندلی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ شھر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کرنے اور دھاندلی کے الزام میں پولیس اور رینجرز نے دس سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ جن میں چار سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ پولنگ اسٹیشن میں تصادم میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہوگیا ہے۔ پولیس کے مطابق برنس روڈ کے گرلز کالج میں قائم پولنگ سٹیشن پر پولنگ ایجنٹوں کی نشاندہی پر ڈالےگئے ووٹوں سے بھرے ہوئے کئی بکس قبضے میں لے کر پریزائیڈنگ افسر احمد سلیمان کوگرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان بکسوں سے 24 سو کاسٹ شدہ ووٹ برآمد ہوئے ہیں۔ لیاری کالج کے پولنگ اسٹیشن پر رینجرز نے کارروائی کر کے پرویز نامی ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے تین بیلٹ بکس برآمد کیے ہیں۔ جن پر ملزم کے حامی امیدوار کے نام پر ووٹ کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ صدر کے علاقے میں فلورنس اسکول کے پولنگ اسٹیشن سے رینجرز نے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گڈاپ کے علاقے میں سچل آباد کے پولنگ اسٹیشن سے ایک امیدوار کے حامی خادم کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ گارڈن کے علاقے میں پولیس نے ایک مشکوک کار کی تلاشی کے دوران ماؤذر اور گولیاں برآمد کی ہیں۔ پیر آباد کے علاقے میں ایک پولنگ اسٹیشن پر دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے دوران ایک پولیس کا سپاہی زخمی ہو گیا ہے۔ صدر کے ٹاؤن کے علاقے عثمان آباد اور اسلام پورہ کے عظیم پرائمری اسکول کے پولنگ اسٹیشن کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے باعث کچھ دیر کے لیے پولنگ روک دی گئی۔ کراچی کے علاقے قائدآباد میں بیلٹ پیپرز پر پانچ امیدواروں کے انتخابی نشانات نہ ہونے پر ان کے حامیوں نے بیلٹ بکس توڑ کر کاسٹ شدہ ووٹ پھاڑ دیے۔ صبح کے نسبت دوپہر کو ووٹروں کی زیادہ تعداد دیکھنے میں آئی۔ سب سے زیادہ رش کراچی کے قدیمی علاقے لیاری میں دیکھنے کو ملا جہاں میلے کا سا سماں تھا۔ کیمپوں پر سیاسی جماعتوں کے نغے بج رہے تھے۔ جبکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ لیاری کے اکثر پولنگ اسٹیشنوں پر خاص کر خواتین نے ووٹر لسٹوں میں نام موجود نہ ہونے کی شکایت کی۔ ناظم کے ایک آزاد امیدوار صدیق بلوچ نے کہا کہ گزشہ بیس برسوں سے ووٹ دینے والوں کے بھی نام موجود نہیں ہیں۔اگر کسی خاندان کے دو افراد کے نام ہیں تو چار کے گم ہیں۔ اسی طرح لیاری، جمشید ٹاؤن، کیماڑی، لانڈھی، ملیر، صدر ٹاؤن کے علاقوں میں امیدواروں کے انتخابی نشانات بیلٹ پیپر میں موجود نہیں تھے۔ لیاری کے یونین کونسل دس میں دوپہر ایک بجے اقلیتی امیدواروں کے بیلٹ پیپر پہنچائے گئے۔ جبکہ کافی پولنگ اسٹیشنوں پر ان مٹ سیاہی موجود نہیں تھی۔ کیماڑی کی یونین کاؤنسل آٹھ میں سیاہی کی عدم دستیابی کی وجہ سے دو گھنٹے پولنگ دیر سے شروع ہوئی ہے۔ ملیر کی جعفر طیار سوسائٹی میں الخدمت گروپ کے یونین کونسل کے ناظم کے امیدوار کریم بخش کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ الخدمت گروپ نے اس کا الزام مخالف گروپ پر عائد کیا ہے۔ پی پی پی کی مانیٹرنگ کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے امیدواروں اور ان کے حامیوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔کورنگی ۔صدر ٹاؤن ۔کیماڑی۔ میں دھاندلی کی جارہی ہے۔ ایم کیو ایم کے لوگ بیلٹ باکس بھر رہے ہیں۔ دوسری جانب سنی تحریک نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ایجنٹوں کو مخالف گروپ نے پولنگ اسٹشنوں سے باہر نکال دیا اور دھاندلی کی جبکہ رینجرز نے موجودگی کے باوجود کچھ نہیں کیا۔ سنی تحریک کے انسان دوست پینل نےفائرنگ کے واقعے کے بعد صدرٹاؤن کی یونین کونسل سات میں انتخابات کا بائیکاٹ کردیا ہے۔تحریک کا کہنا ہے کہ وحشیانہ تشدد کے بعد ایسا کیا گیا۔ دوسری جانب شکایات موصول کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم میں موجود رینجرز کے میجر ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو بھی ووٹر لسٹوں میں نام کی عدم موجودگی۔بیلٹ پیپرز میں امیدواروں کے انتخابی نشانات موجود نہ ہونے کی شکایت موصول ہوئی ہیں۔ اس طرح اکثریت والے علاقوں سے مخالف جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سائیٹ ایریا۔گلشن اقبال۔ملیر۔لانڈھی اور کورنگی سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں۔ فوج صورت حال نے نمٹنے کے لئے تیار کھڑی رہی اور اسی لئے متحد شہر میں قتل و غارت گری میں تو کامیاب نہ ہو سکی لیکن دھاندلی کھل کر کرلی کیوں کہ رینجرس کی ڈیوٹی قتل و غارت گری روکنے کے لئے لگائی گئی تھی دھاندلی روکنے کے لئے نہیں ورنہ فوج کی ڈیوٹی پولنگ اسٹیشن کے اندر لگائی جاتی نا کہ باہر۔ایم کیو ایم مردہ باد پاک فوج اور رینجرس زندہ باد ۔چناچہ اکثر مقامات پر ١٢بجے تک پولنگ صرف ٢ سے ٣ فیصد تک ہی رہی۔البتہ اس عرصے میں برنس روڈ سے ایسے بیلٹ بکس دریافت ہو چکے تھے جو پہلے ہی سے بھرے ہوئے تھے۔ضلع وسطی میں کئی پولنگ اسٹیشنوں پر شناختی کارڈ کے بغیر ووت بھگتائے جاتے رہے۔جنہیں چیلنج کیا گیا لیکن نتیجہ صفر ہی رہا۔یو سی ٦ میں خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر پاسپورٹ کے ذریعے بھی ووٹ ڈالا گیا۔ یو سی ٦ ہی میں عائشہ پبلک اسکول سے دوپہر ڈھائی بجے تک متحدہ کے کارکن بیلٹ پیپر لیکر فرار ہو چکے تھے۔ لياری ٹاؤن لياری ڈگری کالج يو سی ١پولنگ کے دوران متحدہ کے ٥ کارکنان جان معين،محمد علی ، بابر اور نعيم حسن نے پولنگ اسٹيشن کے اندر جانے سے روکنے پر رينجرس کے اہلکاروں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنايا بعد ازاں رينجرس کے اعلی حکام نے جائے وقوع پر پنہچکر مذکورہ افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کرديا۔ لياری ٹاؤن ميں شاہ عبدلطيف بھٹائی روڈ پر محمد بن غازی اسکول ميں پولنگ کے دوران متحدہ کے ١٢ کارکنان داخل ہوئے اور پريذائيڈنگ آفيسر کو ساتھ ملاکر دھاندلی شروع کردی۔واقعھ کی اطلاع پر علاقے کے مضبوط گروپ پپلز پارٹی کے کارکنان بھی وہاں پہنچے اور انہونے متحدہ کے ١٢ کارکنان کو پولنگ اسٹيشن سے باہر نکلنے پر مجبور کيا تودونوں گروپوں ميں تصادم ہوگيا۔ جسميں متعدد لوگ ذخمي ہوئے۔ يو سیيز کے پولنگ اسٹيشنوں پر قبضے کا آغاز ڈھائی بجے ہوا۔ اور ٣ بجے تک ٦٠ سے ذائد يو سیز پر مکمل طور متحد قبضہ کر چکی تھی۔ متحدہ کے مسلح کارکنان اسلحے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی عمارتوں کو گھرے ميں لے چکے تھے۔ لگتا ہے کمتحد کے مسلح کارکنان نے سليمانی ٹوپياں اوڑھ رکھی تھيں اور رينجرس نے آنکھوں ميں سليمانی سرما لگايا ہوا تھا۔ فوج اور رينجرس کو جو حدف ديا گيا تھا يعنی امن و اماں کو قائم رکھنا وہ اسنے بخوبی پورا کرديا اور جو حدف متحدہ کا تھا وہ بھی اسنے حاصل کرليا۔عام يہ محسوس کرتے ہيں کہ شہر ميں فوج اور رينجرس کی موجودگی سے کم از کم خون خرابہ نيہں ہوا ليکن مرکز کی مجبوری تھی کہ وہ متحدہ ہی کو جتوانا چاہتی تھی ورنہ فوج اور رينجرس کو پولنگ اسٹيشنوں کے اندر بھی ذمہ داری دی جاتی تو متحدہ کی بوگس ووٹنگ بھی نہ ہو پاتی۔۔۔۔۔۔ 8月14日 مفاد پرست يا حق پرستمتحدہ کے بلا مقابلا منتخب ہونے والے
حيدرآباد يو سی۔14 کے ناظم ارشد نعيم ايم کيو ايم کينيڈا کے مانٹريال يونٹ
سے بر طرف شدہ ہيں اور متحدہ کے کارکنان معيز، عامر، رئيس صديقی ، جرار، تسليم ،تنطيم، مانٹريال وکيلگری يونٹ موجودہ کارکنان
اورعہديداران اور شکاگو ميں شمالی امريکہ کے سابق آرگنائزر يونس خان اور خود الطاف حسين
اس بات سے واقف ہيں کے جب اس شخص کو متحدہ سے نکالا گيا تو يہ کھلے عام
الطاف حسين کو گالياں ديتا تھا۔ اب صورت حال يہ ہے کہ متحدہ کو يو سی ۔14
کی نشت سے اپنا کوئی حلف يافتہ اميد وار نہيں مل سکا لگتا ہے ايسا اميد
وار جسکی تعليمی ڈگرياں بھی غير قانونی ہيں۔ ريکارڈ گواہ ہے کہ اگست 1988
ميں يہ اسنے کينيڈا ميں سياسی پناہ کی درجواست داخل کی اور اسکے بعد يہ
شخص 1994 ميں پہلی دفعہ پاکستان گيا ليکن اسکے ايل ايل بی کے امتحانات اس
دوران کسی اور نے دئے ، اگر کوئی اسکی ڈگريوں کے خلاف کورٹ ميں جا سکتا ہے
تو ضرور جائے۔اس شخص کے پاس سوائے صحافت ميں ايم اے کی ڈگری کے علاوہ کوئی
بھی اسکی اپنی نہيں ہے ان سب پر امتحانات دوسرے اشخاص نے دئے تھے۔ جن ميں
الطاف ميمن نامی جو کہ متحدہ کے ارشاد وکٹ کيپر اوڈين سنيما کے ساتھ والی
گلی ميں رہتا ہے اور اس ناظم اميد وار کے بہنوئی اور کزن ميرپور کے ذاکر
خان نے دئيے۔ اسکے علاوہ انکے پاس يو ايس اے کی شہريت بھی ہے۔ جہان کے
قانون کے مطابق امريکن شہریت اختيار کرنے کے لئے لازمی ہے کہ دوسرے ممالک
کی شہريت ترک کی جائے۔ اسکا مطلب يہ ہے کہ انہونے پاکستان ميں يہ
بات چھپائی ہے کہ يہ امريکن شہری بھی ہيں۔ مہاجر قومی موومنٹ نے انتخابات کے بائکاٹ کا اعلان کرديامہاجر قومی موومنٹ نے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔
اسلام
آباد…نمائندہ خصوصی… مہاجر قومی موومنٹ نے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ
کردیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان اسلام آباد پریس کلب میں مہاجر قومی موومنٹ
کے رہنما شریف خان اور فیروز حیدر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کسی بھی جماعت کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کا یہ پہلا اعلان ہے ۔دونوں
رہنماؤں نے الزام لگایا کہ قبل ازوقت ہی بدترین دھاندلی کی گئی ہے اور
ہمارے امیدواروں کوسنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے اپنے کارکنوں
اور ہمدردروں سے اپیل کی کہ وہ اے آر ڈی کے امیدواروں کی حق میں ووٹ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی ملک دشمن پالیسیوں اور دیگر صوبوں کے عوام
سے نفرت کی پالیسی سے انحراف کر کے قائم کی جانے والی جماعت مہاجر قومی
موومنٹ نے تمام تر دھاندلیوں اور کراچی میں موجودہ کلاشنکوف کلچر کے
باوجود کراچی سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل
کر کے کراچی کے نام نہاد دعویداروں کی قلعی کھول دی۔ مہاجر قومی موومنٹ کی
اسیر قیادت اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی اور سندھ
کے شہری علاقوں میں قبل از وقت انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے،
بالخصوص مہاجر قومی موومنٹ کو جس طرح ریاستی طاقت کے بل بوتے پر سیاسی
سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی اس صورتحال میں ہم اپنے ہمدردوں کی جان و
مال کی حفاظت اور بدترین دھاندلیوں کے خلاف بلدیاتی انتخابات سے علیحدگی
کا اعلان کرتے ہیں، تاہم ہماری جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کے جن
حلقوں میں اے آر ڈی کے امیدوار حصہ لے رہے ہیں ان حلقوں میں ہمارے ہمدرد
اور کارکنان اے آر ڈی کے امیدواروں کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے، میں
اس موقع پر اے آر ڈی کے رہنماؤں مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفر الحق سمیت
دیگر رہنماؤں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس نازک وقت میں ہمارا ساتھ
دیا اور کراچی کے ایشوز پر آواز اٹھائی۔ میں اس موقع پر ارباب اقتدار اور
مقتدر حلقوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی کو بچائیں، اپنے اقتدار کے لئے
ملک کو توڑنے کی سازش کرنے والوں کے ساتھی نہ بنیں، شہر کو دہشت گردوں اور
بھتہ خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسلام آباد میں گہری نیند نہ سوئيں۔
|
|
|||||||
|
|